صوبہ سندھ کے درالحکومت کراچی کا نوجوان سیلر یاسر 23 مارچ کو ایران کی بندرگاہ بندر عباس میں اس وقت اسرائیلی حملے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا جب وہ ٹگ بوٹ میں موجود تھا جبکہ اس دوان اس کے مزید 10 ساتھی بھی زخمی ہوئے جن میں سے 3 پاکستانی بھی شامل تھے۔
ایک ہفتے سے بھی زائد وقت گزرنے کے باوجود تاحال یاسر کی میت پاکستان نہیں لائی جا سکی، جس پر اہلخانہ دوہرے غم کا شکار ہیں۔ یاسر کے بھائی نے ایس بی ایس اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یاسر اور اس کے ساتھی ٹگ بوٹ پر 6 ماہ سے ملازمت کر رہے تھے۔
یاسر 6 بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور 3 سالہ بچے کا باپ تھا۔ لواحقین کے مطابق حکومتی سطح پر نہ ہی ان سے رابطہ کیا گیا اور نہ ہی میت کی واپسی کے اقدامات کیے گئے۔ دوسری جانب سربراہ ایدھی فاؤنڈیشن فیصل ایدھی کا کہنا ہےکہ یاسر کی میت پاکستان منتقل کرنے کے لیے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔
فیصل ایدھی کے مطابق جلد یاسر کی میت کو پاکستان لایا جائے گا جبکہ دیگر 3 زخمیوں کے علاج معالجے کیلئے ایرانی حکام سے رابطے میں ہیں، قانونی کارروائی اور زخمیوں کے مکمل صحت یاب ہونے پر انہیں بھی جلد پاکستان واپس لایا جائے گا۔ فیصل ایدھی کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ کی بندش کے باعث پاکستانیوں کو وہاں سے بحفاظت نکالنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
ایس بی ایس اردو کیلئے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی۔






