دیر سے تشخیص، معاشرتی جھجک اور طبی سہولیات کی کمی، اس بیماری کو مزید جان لیوا بنا رہی ہیں، دیہی علاقوں میں تو صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ اکثر خواتین کو تب پتہ چلتا ہے جب مرض آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہوتا ہے۔
حکومتی و نجی اداروں نے آگاہی مہمات کا آغاز کر رکھا ہے، پنک ربن پاکستان جیسی تنظیمیں، ملک بھر میں خواتین کو خود معائنہ، ابتدائی تشخیص اور فوری علاج کی ترغیب دے رہی ہیں.
اکتوبر کے مہینے میں شہروں کی بلند عمارتیں اور تاریخی یادگاریں گلابی روشنیوں سے جگمگاتی ہیں، جو امید، حوصلے اور زندگی کا استعارہ بنتی ہیں، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر عوامی سطح پر شعور نہ بڑھایا گیا تو یہ روشنی ہزاروں گھروں میں ہمیشہ کے لیے بجھ سکتی ہے۔
(ایس بی ایس اردو کیلئے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی)





