پورپنکھ کے دیہی وکٹورین شہر میں دو پولیس افسران کی بندوق کے ذریعے ہلاکت نے آسٹریلیا میں بندوقوں کی لائسنس اور ملکیت کے بارے میں ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے. تسمانیہ میں پورٹ آرتھر کے قتلِ عام کے قریباً تین دہائیوں کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں پورٹھ آرتھر کے واقعے کے وقت جتنے ہٹھیار تھے اس وقت اس سے ۲۵ فیصد ذیادہ قانونی آتشیں ہتھیار موجود ہیں ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ملک میں اس اسلحے کو محدود کرنے کے قوانین کمزور ہو ئے ہیں۔
دنیا میں آسٹریلیا کے ذاتی اسلحے رکھنے کے بارے میں سخت قوانین کو کامیابی کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر ماہرین کے مطابق صورتِ حال اتنی سادہ نہیں۔ گن کنٹرول آسٹریلیا کے صدر ٹم کوئن کہتے ہیں کہ پورٹ آرتھر کے قتلِ عام کے سانحے کے بعد قوانین مضبوط ضرور ہوئے لیکن وقت کے ساتھ کئی کمزوریاں بھی پیدا ہوئیں۔ ان کے مطابق، حکومت اور پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اکثریت کے تحفظ کی خاطر ان قوانین کو بندوق لابی کے دباؤ سے بچائیں۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں چار ملین سے زائد رجسٹرڈ آتشیں ہتھیار موجود ہیں۔ ساتھ ہی ایک منظم اور بااثر بندوق لابی سرگرم ہے جو مزید ہتھیار عام شہریوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایس بی ایس نیوز نے اس کہانی پر گن لابی گروپ انڈسٹری کی اہم نمائندہ تنظیم SIFA سے رابطہ کیا، لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق، آسٹریلیا میں بندوق قوانین پیچیدہ ہیں کیونکہ زیادہ تر اختیارات ریاستی اور علاقائی حکومتوں کے پاس ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قومی سطح پر یکساں قانون سازی مشکل رہی ہے۔ تاہم، پورٹ آرتھر کے بعد متعارف کرائے گئے قومی معاہدے اور بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی خریداری آج بھی ایک سنگ میل سمجھے جاتے ہیں۔





