گورنر جنرل سیم موسٹن نےبونڈائی جنکشن شاپنگ سینٹر کے واقعے کی دوسری برسی کے موقع پر خصوصی اعزازات کا اعلان کیا۔آٹھ افراد کو حملے کے دوران بہادری دکھانے پر اعزاز سے نوازا گیا ہے،
سیکیورٹی گارڈ فراز طاہر ان چھ افراد میں شامل تھے جو اس حملے میں ہلاک ہوئے، جب وہ حملہ آور جوئل کاوچی کا سامنا کرنے کے لیے خطرے کی طرف بڑھے۔ ۱۳ اپریل بروز پیر فراز کے اہلِ خانہ نے اسی شاپنگ سینٹر میں خراجِ عقیدت پیش کیا جہاں انہیں چاقو مارا گیا تھا۔
"آج میں یہاں فراز طاہر کے بھتیجے کی حیثیت سے کھڑا ہوں، دل محبت، فخر اور گہرے دکھ سے بھرا ہوا ہے۔ میرے چچا صرف خاندان کے فرد نہیں تھے۔ وہ ایک مثالی شخصیت تھے، عزت دار، ایماندار، مہربان اور بے حد بہادر انسان۔ میرے لیے وہ ان بہادر ترین لوگوں میں سے ایک تھے جنہیں میں نے کبھی جانا۔"
بارہ سالہ مصور بشیر کے لیے گورنر جنرل سیم موسٹن کی جانب سے اعلان کیے گئے خصوصی آسٹریلین بہادری اعزازات ان کے یقین کی تصدیق بن گئے۔
ان کے ساتھی محمد طحہٰ، جو پیٹ میں چاقو کے وار کے باوجود زندہ بچ گئے، کو بھی ان کے بہادرانہ ردعمل پر اعزاز سے نوازا گیا۔انہوں نے ایس بی ایس اردو کو بتایا کہ یہ اعزازات اس بات کی اہم یاد دہانی ہیں کہ اس دن مہاجر کارکنوں نے کیا کردار ادا کیا۔"جہاں تک تارکین وطن کارکنوں کا تعلق ہے، میری طرح، میں محسوس کرتا ہوں کہ میں کمیونٹی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہوں۔ ایسے لمحات دکھاتے ہیں کہ ہم صرف کارکن نہیں ہیں، ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں۔ اور جب ضرورت پڑتی ہے تو ہم آگے بڑھتے ہیں۔ میرے خیال میں اس بات کے اعتراف کا رحجان بڑھ رہا ہے، لیکن اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے"





