تقریباً 900 کے قریب پناہ گزینوں کا ایک گروپ جو تقریباً 13 سال پہلے کشتی کے ذریعے آسٹریلیا آیا تھا، ویزا کی غیر یقینی حالت میں پھنسا ہوا ہے اور مستقل سکونت کے لئے لڑ رہا ہے۔ حالانکہ وہ تقریباً ایک دہائی سے آسٹریلیا میں رہائش پذیر اور کام کر رہے ہیں، لیکن انہیں مستقل رہائش کا کوئی راستہ نہیں مل سکا۔ اس کی وجہ سال 2013 کی وہ سخت گیر امیگریشن پالیسی ہے جو کشتی کے ذریعے غیر قانونی طور پر آسٹریلیا آنے والوں پر لاگو ہوتی ہے۔ یہ پناہ گزین آسٹریلین حکومت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ان کے لئے رعایت کی جائے تاکہ ان کے لئے امید کی کوئی کرن پیدا ہو سکے۔
ایک انتباہ - اس کہانی میں خود اذیتی کے کچھ ایسے بیانات ہیں جو بعض لوگ پریشان کن محسوس کر سکتے ہیں۔
سارا ماشلین اور ان کے ساتھی علی غراعی آسٹریلیا میں ایک خواب کی سی زندگی جی رہے ہیں۔
وہ مغربی سڈنی میں اپنے گھر کو نئے سرے سے سنوراتے ہوئے کچھ سبزیاں بھی کاشت کر رہے ہیں ۔
لیکن سارا، جو تقریباً 13 سال پہلے ایران میں مذہبی طور پر قانونی چارہ جوئی کا شکار ہونے کے خطرے سے بچ کر آستریلیا پہنچی تھیں، اب بھی آسٹریلیا کو اپنا گھر نہیں کہہ سکتیں۔
سارا ان 900 افراد میں شامل ہیں جو اس وقت آسٹریلیا میں ویزہ کی غیز یقینی کا شکار ہیں ، مزید تفصیل سنئے پوڈکاسٹ میں





