میلبورن میں منعقدہ پاکستانی مینگو فیسٹیول میں پاکستان کے قونصل خانے کے مطابق 30 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی، جہاں چین، ترکی، فلپائن، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے وفود کے ساتھ ساتھ آسٹریلین وفاقی وزراء اور وکٹوریہ کی پریمیئر جیسنٹا ایلن نے بھی خصوصی شرکت کی۔ ایس بی ایس اردو کی اس رپورٹ میں اسسٹنٹ منسٹر جولیئن ہل اور چین کے قونصل جنرل فینگ ژنگ ون کی خصوصی گفتگو شامل ہے۔
پاکستان میں آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے، لیکن اب اس کی مہک آسٹریلیا کے شہروں میں بھی پھیل چکی ہے، اور اس سے جڑے ثقافتی میلے آسٹریلیا کے مختلف شہروں میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔ میلبورن میں سجائے گئے پاکستانی مینگو فیسٹیول میں نہ صرف مقامی پاکستانی کمیونٹی بلکہ چین، ترکی، فلپائن، ملائیشیا اور انڈونیشیا سمیت کئی ممالک کے وفود نے بھی شرکت کی۔ میلبورن میں پاکستانی قونصل خانے کے مطابق اس ایونٹ میں ۳۰ ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے، جن میں آسٹریلیا کی وفاقی حکومت کے وزراء اور وکٹوریہ کی پریمیئر جیسنٹا ایلن بھی شامل تھیں۔ اسسٹنٹ منسٹر فار سٹیزن شپ، کسٹمز اینڈ ملٹی کلچرل افیئرز جولیئن ہل نے ایس بی ایس سے گفتگو میں اسے ایک حقیقی کثیر الثقافتی ایونٹ قرار دیا اور کہا کہ آسٹریلیا کا تنوع تقسیم کی بجائے مضبوطی اور خوشحالی کا ذریعہ بننا چاہیے۔ چین کے قونصل جنرل فینگ ژنگ ون نے بھی اس موقع پر باہمی احترام اور باہمی سیکھنے کو کثیر الثقافتی معاشرے کی بنیاد قرار دیا۔




