محکمہ داخلہ پنجاب نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان سمیت تمام قیدیوں سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے آئی جی جیل خانہ جات کو بھجوائے جانے والے مراسلے میں اڈیالہ جیل میں ہر قسم کی ملاقاتوں پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
مراسلے میں کہا گیا کہ ملاقاتوں پر پابندی کا فیصلہ اڈیالہ جیل میں دہشتگردی کے خطرے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جیل میں سرچ آپریشن بھی شروع کیا جائیگا۔ محکمہ داخلہ نے پنجاب بھر کی جیلوں کی سیکورٹی سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پنجاب حکومت نے وزیراعلی خیبرپختونخواہ علی امین گنڈاپور کو اڈیالہ جیل آنے سے روک دیا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے خیبرپختونخواہ حکومت کو خط لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہےکہ سیکورٹی تھریٹ کی وجہ سے اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندی عائد ہے۔ وزیراعلی خیبرپختونخواہ اپنا اڈیالہ جیل کا دورہ منسوخ کردیں۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کوریج پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔ منگل کے روز پولیس نے اڈیالہ جیل کے گیٹ نمبر 5 کے باہر میڈیا گاڑیوں کی پارکنگ پر بیریئر لگادیے ہیں، اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کیمروں والی جگہ پر قناتیں لگادی گئیں۔ میڈیا نمائندوں کے مطابق پولیس نے میڈیا ٹیموں کو جیل سے 2 کلو میٹر دور چلے جانے کی ہدایت کی ہے۔ جس کے بعد تمام میڈیا ٹیمز واپس روانہ ہوگئیں۔ منگل کے روز سابق وزیراعظم عمران خان کے اہلیخانہ اور پارٹی رہنما ملاقات کیلئے پہنچے لیکن ان کی عمران خان سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی۔

پی ٹی آئی رہنماوں کے مطابق جیل حکام نے انہیں 15 روزہ پابندی کے بارے میں آگاہ کیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اس کی مذمت کی ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی جان کو شدید خطرات ہیں۔ انہوں نے پابندی کی تحقیقات بھی مطالبہ کیا ہے۔ عمرایوب نے الزام عائد کیا ہے سینیٹ کے ضمنی الیکشن سے پہلے پارٹی لیڈرشپ کو عمران خان سے ملاقات سے روکا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان، سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور تحریک انصاف کے صدر پرویز الہی قید ہیں۔
عام انتخابات کے بعد پاکستان میں حکومت سازی آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے۔ پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے بعد صوبہ سندھ کی 9 رکنی کابینہ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے منگل کے روز سندھ کی نومنتخب کابینہ سے حلف لیا جبکہ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ بھی اس موقع پر موجود تھےحلف لینے والوں میں شرجیل انعام میمن، ڈاکٹر عذرا پیچوہو، سید ناصر حسین شاہ، سعید غنی، جام خان شورو، ضیا حسین ، سردار محمد بخش مہر اور علی حسن زرداری شامل ہیں۔ چیف سیکریٹری نے وزیراعلیٰ سندھ کی سفارش پر 3 مشیران کا اعلان کیا، ان مشیروں میں بابل بھیو،احسان مزاری اور نجمی عالم شامل ہیں۔
وزیراعظم شہاز شریف نے 19 رکنی وفاقی کابینہ کے ارکان کو محکمہ جات تفویض کردیئے ہیں۔ کابینہ ڈویثرن کے نوٹیفکیشن کے مطابق اسحاق ڈار وزیر خارجہ، محسن نقوی وزیر داخلہ، محمد اورنگزیب وزیر خزانہ اور محصولات، خواجہ آصف وزیر دفاع و ایویشن، عطا تارڑ وزیراطلاعات، احسن اقبال وزیر منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات اور رانا تنویر حسین کو وزیرصنعت و پیداوار قلمدان دیا گیا ہے۔اویس لغاری کو ریلوے، مصدق ملک کو پٹرولیم و پاور ڈویژن، امیر مقام کو سیفران، ثقافت و تاریخی ورثہ، ریاض حسین پیرزادہ کو ہاؤسنگ اینڈ ورکس، مسلم لیگ ق کے چوہدری سالک حسین سمندر پار پاکستانیوں اور انسانی وسائل ، ایم کیو ایم پاکستان کے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سائنس وٹیکنالوجی، وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کا وزیر تعینات کیا گیا ہے۔
کابینہ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی کابینہ نوجوانوں اور تجربہ کار لوگوں کا مجموعہ ہے۔ اب یا کبھی نہیں کا مرحلہ آگیا۔ ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالیں گے۔صدر آصف علی زرداری اور وزیرداخلہ محسن نقوی نے اپنی تنخواہ اور مراعات لینے سے انکار کردیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری صدر منتخب ہونے کے بعد کراچی کے دورے پر پہنچ گئے ہیں۔ صدر زرداری نے منگل کے روز مزار قائد پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی ۔
ادھر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی نا اہلی کی درخواست سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے سماعت کے لیے 26 مارچ کی تاریخ مقرر کردی ہے۔ الیکشن کمیشن میں محمد کفیل نامی شخص نے درخواست دائر کی تھی جس میں علی امین گنڈا پور پر اثاثے چھپانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیویلین دور میں ایوان بالا یعنی سینیٹ غیرفعال ہوگیا۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا آفریدی ریٹائرڈ ہوگئے ۔ سینیٹ رولز میں چیئرمین سینیٹ اسپیکر پیٹرن نہ ہونے کے باعث سینیٹ کاکوئی سربراہ نہیں ۔ سینیٹ کو فعال رکھنے سے متعلق پارلیمانی لیڈرکمیٹی میں اتفاق کے باوجود رولز میں ترامیم نہ ہوسکی تھی۔ ادھر سینیٹ آف پاکستان کے 52 ارکان مدت پوری کرکے ریٹائرڈ ہوگئے ہیں ۔ مسلم لیگ ن کے 12، پیپلز پارٹی 12 اور پی ٹی آئی کے 8 سینیٹرز ریٹائرڈ ہو گئے ہیں۔ جمیعت علماء اسلام ف،پی کے میپ اور نیشنل پارٹی کی دو،دو سینیٹرز ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔ بلوچستان عوامی پارٹی 6، جماعت اسلامی،ایم کیو ایم اورمسلم لیگ فنکشنل کے ایک ایک سینیٹرز ریٹائرڈ ہوگئے ہیں۔ سابقہ فاٹا کے چار سینیٹرز اوار اسلام آباد سے دو سینٹرز اسد جونیجو اور مشاہد حسین سید بھی ریٹائرڈ ہوگئے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق سندھ اور پنجاب کے 12،12 سینٹرز جبکہ خیبرپختوانخوا اور بلوچستان کے 11،11سینیٹرز ریٹائرڈ ہوگئے۔ سینیٹراسحاق ڈار،رضا ربانی،مولو بخش چانڈیو، فروغ نسیم اور مظفر شاہ بھی ریٹائرڈ ہوگئے۔ قائد حزب اختلاف ڈاکٹر شہزاد وسیم،مصدق ملک، ڈاکٹر آصف کرمانی، ولید اقبال،حافظ عبدالکریم اور سینیٹر سیمی ایزدی ریٹائڑد ہونے والوں میں شامل ہیں۔ سینیٹر فیصل جاوید ،پیر صابر شاہ ، طلحہ محمود ، مشتاق احمد، دلاور خان ،اعظم سواتی، روبینہ خالد، احمد خان، کہدہ بابر،شفیق ترین، طاہر بزنجو، اور نصیب اللہ بازئی بھی ریٹائرڈ ہوگئے ہیں۔ سابقہ فاٹاسے ڈپٹی چیئرمین مرزا آفریدی،ہدایت اللہ خان ، ہلال الرحمان اور شمیم افریدی ریٹائرڈ ہوگئے ہیں۔ انوارالحق کاکڑ اور شوکت ترین کی نشست استعفی کے باعث پہلی ہی خالی ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام نے سینیٹ کے ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔سینیٹ کی 6 خالی نشستوں پر ضمنی الیکشن 14 مارچ کو ہوگا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنما نیئربخاری اور جے یو آئی ف کے مولانا عبدالغفور حیدری نے بتایا کہ سینیٹ کے ضمنی الیکشن میں جمعیت علمائے اسلام کے ارکان اسلام آباد کی نشست پر یوسف گیلانی کو ووٹ دیں گے، جبکہ بلوچستان میں پیپلزپارٹی، ن لیگ اور جے یو آئی ملکر الیکشن لڑیں گی۔
قرض کی اگلی قسط کیلئے عالمی مالیاتی ادارے اور پاکستان کی وزارت خزانہ کی معاشی ٹیم کے درمیان مذاکرات 14 سے 18 مارچ کے درمیان ہونگے۔ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں پاکستان کو 10 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کی جائے گی۔ وفاقی حکومت نے اس بار معاشی ٹیم میں تبدیلی کی ہے اور اسحاق ڈار کی جگہ محمد اورنگزیب کو وزیر خزانہ اور محصولات تعینات کیا گیا ہے۔ 59 سالہ محمد اورنگزیب بینکنگ کے شعبے میں 30 سالہ تجربہ رکھتے ہیں۔وفاقی کابینہ نے پیر کے روز وزارت داخلہ کی سفارش پر وزارت خزانہ میں ذمہ داریاں سنبھالنے والے محمد اورنگزیب کی پاکستانی شہریت دوبارہ حاصل کرنے کی درخواست منظور کرنے کی اجازت دے دی تھی۔
(رپورٹ: اصغرحیات)







