کار ریسنگ نہ صرف ایک کھیل بن رہی ہے بلکہ پاکستان میں ایک نئی صنعت کے طور پر بھی ابھرتی جارہی ہے، شہروں میں خطرناک سمجھی جانے والی اس سرگرمی کے لیے اب سپر ہائی وے (ایم نائن) سندھ کے قریب ایک ٹریک تیار کیا گیا ہے، جہاں ملک بھر سے آئے کار ریسنگ کے شوقین اپنی مہارت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان مقابلوں میں جدید، چمچماتی اور برق رفتار گاڑیاں حصہ لیتی ہیں، جبکہ کاروباری شخصیات بھی اس کھیل میں دلچسپی لے کر نئے کاروباری مواقع تلاش کرتی ہیں۔
کار ریسنگ کے منفرد ایونٹ میں 50 کے قریب نئے اور ماہر ڈرائیورز نے حصہ لیا، جن میں خاتون ڈرائیور لائبہ حسین بھی شامل تھیں۔ لائبہ کے مطابق، مجھے اس مقابلے میں حصہ لینا تھا کیونکہ ریسنگ کمیونٹی میں زیادہ لڑکیاں نہیں ہیں، یہ تھوڑا مشکل ضرور ہے، مگر اتنا مشکل نہیں جتنا بتایا جاتا ہے۔ فاتح ریسر شامیق سعید نے کہا کہ آف روڈ ریلی پاکستان دہائیوں سے چل رہی ہے، لیکن نئی نسل آٹو کراس کو پروموٹ کر رہی ہے۔ چیف آرگنائزر شجاعت شیروانی نے کہا کہ یہ ٹریک شہر سے دور ہے، لیکن لوگ اسے انجوائے کرتے ہیں، ہمارا مقصد خوف کو ختم کرنا اور مقابلوں کو مزید دلچسپ بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقابلوں میں بہتری آرہی ہے، بڑی تعداد میں ریسرز حصہ لے رہے ہیں۔
ایس بی ایس اردو کے لیے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی۔





