’بوڑینڈو‘ ساز کو موہنجو داڑو تہذیب کا پہلا ساز بھی کہا جاتا ہے، جسے ابتدا میں کچی مٹی سے بنا کر پھونک کے زریعے بجایا جاتا تاہم موجودہ دور میں قدیم سندھی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے بوڑینڈو کو بھٹی میں پکا کر بجایا جاتا ہے، اپنی نوعیت کے اس منفرد اور تاریخی ساز کو بجانے والے آرٹسٹ کم ہو گئے ہیں تاہم فقیرذوالفقارعلی، ہزاروں برس کی معدم ہوتی اس تہذیب کو اپنی مدد آپ کے تحت زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، ذوالفقار علی کو بوڑینڈو بجانے پر پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ اور سندھ کا سب سے مشہور شاہ لطیف ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔
(ایس بی ایس اردو کیلئے یہ رپورٹ پاکستان سے احسان خان نے پیش کی)






