پاکستانی نژاد آسٹریلین امتیاز کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو پاکستان جا کر شادی کرنے کے بجائے او بات کو ترجیح دے رہے ہیں کہ آسٹریلیا ہی میں شادی کی جائے ، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود پاکستانی اقدار اور ثقافت برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے۔
امتیاز کہتے ہیں مہنگائی اور افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرح کے تناظر میں یہ زیادہ بہتر ہے کہ آسٹریلیا میں شادی کی جائے اور اپنے اہل خانہ کو پاکستان سے بلا کر ’’ڈیسٹینیشن ویڈنگ‘‘ کا مزہ لیا جائے۔
دوسری جانب ان شادیوں کی منصوبہ بندی سے لے کر کھانے پینے ، ملبوسات ، زیور اور مقام کا تعین کرنے والے ، اس کاروبار سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے یہاں ایشیائی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے جنوب ایشین طرز کی شادیوں کی تقریبات میں یقینا اضافہ ہوگا۔
یہ صورتحال جہاں آسٹریلیا میں شادی کرتے ہوئے اپنی روایات اور ثقافت کو فروغ دینے والوں کے لئے خوش آئند ہے وہیں کاروباری افراد کے نزدیک ان کے کاربار میں اضافے کا ذریعہ بھی ہوگی۔
مزید جانئے

آسٹریلیا آکر شادی کرنا مشکل کیوں ہے ؟






