زندگی کی سات دہائیاں دیکھنے والے استاد مظہرامراؤ بندو خان تیزی سے معدوم ہونے والے اس فن کو اپنے تہیں بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ایس بی ایس اردو سے خصوصی گفتگو میں استاد مظہرامراؤ بندو خان بتایا کہ وہ نسل در نسل اس فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ خان صاحب کے مطابق یہ فن لوگوں کو دکھ نہیں رہا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ سارنگی کا ایک باقاعدہ فیسٹیول ہونا چاہئے، اداروں سے بھی درخواست کی کہ ایک میلہ سجایا جائے، جہاں سارنگی کو پروموٹ کیا جائے۔
استاد مظہرامراؤ بندو خان یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انہوں نے 1970 میں دادا کی برسی میں صرف پانچ برس کی عمر میں پہلی پرفارمنس دی تھی، جس کے بعد 1977 میں ریڈیو پاکستان میں پروفیشنل کیریئر کا آغاز کیا۔
سارنگی نواز استاد مظہرامراؤ بندو خاں نے بتایا کہ سال 2028 میں17 سے 19 سارنگی نواز پاکستان میں موجود تھے، جو آج کم ہو کر 7 رہ گئے ہیں۔
خان صاحب کہتے ہیں کلاسیکل اور سارنگی کا زیادہ پرچار نہیں ہوتا تاہم خواہش ہے کہ سارنگی سمیت ناپید ہونے والے دیگر سازوں کو بچانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔
بشکریہ : احسان خان
مزید جانئے

غزل، موسیقی اور صوفی رقص کا دلکش امتزاج






