سنیل شنکر ایک پاکستانی نژاد آسٹریلین ہیں جو یہاں جنوب ایشیائی تھیٹر کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں خود اداکری کے ساتھ ڈائریکشن بھی کرنے والے سنیل اس سال جولائی میں اپنا ایک نیا پروجیکٹ پیش کر رہے ہیں جس کا تصور قدرے مختلف ہے جبکہ ان ڈرامے کی پیش کار انشو ادھیکار بھارتی نژاد ہیں ان کی اپنے پروجیٹ جین زی کو تھیٹر تک لانے کی جدوجہد اور جنوب ایشائی تھیٹر کا درپیش چیلنجز اور راہ ہمورکرنے والے عوامل پر سنیل اور انشو ایس بی ایس اردو سے خصوصی گفتگو سنئے اس پوڈکاسٹ میں
پاکستان مین اس وقت ’ سر ٹائیٹل ‘ کا تصور اگرچہ بہت انوکھا ہے لیکن آسٹریلیا میں یہ تصور اب تھیٹر دیکھنے والوں کے لئے نیا نہیں ہے ۔
ایک ایسا ہی پروجیکٹ سنیل اور ان کے ساتھی بھی جنوب ایشیائی ناظرین کے لئے پیش کر رہے ہیں۔ تاہم سنیل کا کہنا ہے کہ کیونکہ آسٹریلین ناظرین میں جنوب ایشیائی کہانیوں کا تجسس موجود ہے اس لئے ’سر ٹائیٹلز‘ کے ساتھ ڈرامہ پیش کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔
ان کی اداکار ساتھی اور ان کے پروجیکٹ کی پیش کار انشو ادھیکار کا بھی ماننا ہے کہ جنوب ایشائی ڈرامہ اپنے اندر ایک وسعت رکھتا ہے
پاکستانی ڈرامہ رائیٹرز فواد خان اور بی گل کے ڈراموں کے بارے میں انشو ادھیکار کا کہنا تھا کہ انہیں نہ صرف تحریر نے متاثر کیا بلکہ شاید اب وہ اپنے اندر معاشرتی تلخی کو قبول کرنے کی صلاحیت زیادہ رکھتی ہیں
سنیل شنکر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ اگرچہ ہمارے نوجوان توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت میں کمی آئی ہے اور سوشل میڈیا نے روایتی تھیٹر کو ’جین زی‘ سے دور کرنے میں کردار ادا کیا ہے تاہم ان کا تین ڈراموں پر مشتمل یہ پروجیکٹ آج کی نوجوان نسل کے لئے بہت اہم ہے
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ڈرامے نہ صرف ’جین زی‘ کی توجہ سمیٹیں گے بلکہ ساتھ ہی وہ اس کی کہانیوں سے ’ریلیٹ‘ کر پائیں گے





