موسیقی کو روح کی غذا اور دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ کہا جاتا ہے، اور آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں یہ تصور حقیقت کا روپ دھارتا نظر آتا ہے۔ پاکستانی نژاد انجینئر اور بانسری نواز وقاص محمود مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے فنکاروں کے ساتھ مل کر بین الثقافتی موسیقی کی محافل میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایس بی ایس اردو کے اس پوڈکاسٹ میں وہ اپنے موسیقی کے سفر، ثقافتی ہم آہنگی کے فروغ میں فن کے کردار، اور مختلف برادریوں کو قریب لانے میں موسیقی کی طاقت پر گفتگو کرتے ہیں۔
وقاص محمود ایک انجینئر ہیں لیکن موسیقی سے محبت نے انہیں ایک بانسری نواز بھی بنا دیا ہے ، ان کے اپنے الفاظ میں وہ خود کو انجینئر کم اور فنکار زیادہ تصور کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ وقت جتنی اجازت دے وہ اپنے شوق کی تکمیل پر صرف کرتے ہیں ۔
مختلف ثقافتوں کے ملن کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ دراصل جنوب ایشیائی موسیقی ایک ہی ہے خاص طور پر اگر خطے کے شمالی حصے کی بات کی جائے تو یہ تفریق اکثر مشکل ہو اتی ہے کہ کون سا گیت کس ملک سے گایا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی موسیقی تو کلاسیکل موسیقی کی بنیاد ہے لیکن کلاسیکل موسیقی دراصل ایک ہی ہے اور اس میں تقسیم سطحی کہی جا سکتی ہے۔

انہوں نے اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ جب سب مل کر پرفارم کرتے ہیں تو اگر پردہ ڈال کر سنا جائے تو یہ تخصیص ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئے پاکستانی پرفارم کر رہا ہے یا بھارت کا فنکار ۔
اپنے بانسری سے تعلق اور رشتے کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وقاص کا کہنا تھا کہ وہ شروع سے فنون لطیفہ کے مداح تھے لیکن دوران تعلیم ایک دوست نے بانسری سے متعارف کروایا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے شوق کی اصل تکمیل آسٹریلیا آ کر ہوئی ہے ۔





