برسبین میں مقیم ٹیکس ایجنٹ توصیف عباسی نے ایس بی ایس اردو سے خصوصی گفتگو میں گڈز اینڈ سروسز ٹیکس یعنی جی ایس ٹی سے متعلق اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی، جن میں رجسٹریشن کی حد، اوبر اور رائڈ شیئر اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے مختلف قوانین، اور کاروباری اثاثوں کی ڈیپریسی ایشن شامل ہیں۔
توصیف عباسی نے بتایا کہ عام کاروباروں کے لیے جی ایس ٹی رجسٹریشن اس وقت لازمی ہو جاتی ہے جب سالانہ ٹرن اوور پچھتر ہزار ڈالر سے تجاوز کر جائے، تاہم اوبر، ڈیڈی، اولا اور ٹیکسی ڈرائیوروں پر یہ حد لاگو نہیں ہوتی اور انہیں پہلے ڈالر سے ہی جی ایس ٹی ادا کرنا ہوتا ہے، ساتھ ہی اے بی این اور جی ایس ٹی رجسٹریشن کے بعد ہر تین ماہ بعد بزنس ایکٹیویٹی سٹیٹمنٹ جمع کروانا لازمی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کاروباری اخراجات جیسے فیول اور کار ایکسپینسز پر ادا کیا گیا جی ایس ٹی بھی واپس کلیم کیا جا سکتا ہے۔ اثاثوں کی ڈیپریسی ایشن کے حوالے سے بتایا گیا کہ دس ملین ڈالر سے کم ٹرن اوور رکھنے والے چھوٹے کاروبار بیس ہزار ڈالر سے کم مالیت کا کوئی بھی اثاثہ خریدنے کی صورت میں اسی سال اس کی مکمل رقم کلیم کر سکتے ہیں، جبکہ اس سے زائد مالیت کے اثاثے کئی سالوں پر تقسیم کر کے ڈیپریسی ایٹ کیے جاتے ہیں۔





