میلبورن میں مقیم ٹیکس ایجنٹ محمد سعد کمال نے ایس بی ایس اردو سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ اگرچہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹیکس سے متعلق آگاہی فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن یہ ایک رجسٹرڈ ٹیکس ایجنٹ کا متبادل نہیں بن سکتی، خاص طور پر پیچیدہ کیسز، آڈٹ کی صورتحال اور مسلسل بدلتے ہوئے قوانین کے تناظر میں۔
محمد سعد کمال نے بتایا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس عام لوگوں کو ڈیڈکشنز، میڈیکیئر لیوی، ہیکس، کیپیٹل گینز اور ورک ریلیٹڈ ایکسپینسز جیسے تصورات سمجھنے میں تعلیمی نقطہ نظر سے کافی مددگار ثابت ہوئی ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اے ٹی او کے مطابق ٹیکس ریٹرن کی ذمہ داری ہمیشہ خود فرد پر عائد ہوتی ہے، چاہے معلومات آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے ہی کیوں نہ لی گئی ہوں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس بعض اوقات پرانی یا غلط معلومات کو بھی پورے اعتماد سے پیش کر دیتی ہے، جبکہ اے ٹی او کے قوانین ہر سال تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
انہوں نے اسے سیلف میڈیکیشن سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح گوگل سرچ کسی ڈاکٹر کا متبادل نہیں بن سکتی، اسی طرح آرٹیفیشل انٹیلیجنس بھی ایک رجسٹرڈ ٹیکس ایجنٹ کی جگہ نہیں لے سکتی، کیونکہ ٹیکس ایجنٹ فرد کے مخصوص حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تفصیلی سوالات پوچھتا ہے۔ آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ اگر آڈٹ کی صورت میں غلط معلومات کی بنیاد پر دعوے کیے گئے ہوں تو ریٹرن میں ترمیم کرنی پڑ سکتی ہے اور ریفنڈ کی بجائے رقم واپس ادا کرنا پڑ سکتی ہے، اس لیے خاص طور پر کاروباری، انویسٹمنٹ انکم یا کرپٹو کرنسی رکھنے والے افراد کو پیشہ ورانہ مدد لینے کا مشورہ دیا۔





