ٹورنس یونیورسٹی کے سینئر لیکچرر ڈاکٹر کامران شوکت کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) روزگار کی دنیا کو تیزی سے بدل رہی ہے، لیکن یہ صرف ملازمتیں ختم نہیں کر رہی بلکہ نئی ملازمتیں بھی پیدا کر رہی ہے۔ وہ عام لوگوں کے لیے اے آئی کے فوائد، چیلنجز اور محفوظ استعمال کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
ڈاکٹر کامران شوکت کے مطابق مصنوعی ذہانت روزمرہ کے بہت سے معمول کے کاموں کو خودکار بنا رہی ہے، جیسے ڈیٹا اندراج، ای میلز کے جواب اور شیڈولنگ، جس سے کچھ ملازمتوں کی طلب کم ہو سکتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ مشین لرننگ انجینئر، سائبر سکیورٹی تجزیہ کار اور اے آئی ماہرین جیسی نئی ملازمتیں بھی پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اے آئی پہلے ہی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے — گوگل اسسٹنٹ، گوگل میپس اور سوشل میڈیا کی سفارشات سب اسی کی مثالیں ہیں۔ ڈاکٹر شوکت نے خبردار کیا کہ ہنر کا فقدان، رازداری اور ڈیٹا سکیورٹی، اور غلط معلومات اے آئی کے سب سے بڑے چیلنجز ہیں، خاص طور پر امیگریشن، مالی یا قانونی معاملات میں اے آئی پر اندھا اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اسے کس طرح اخلاقی اور ذمہ دارانہ طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔





