میلبورن کے نواحی علاقے ٹرالگون میں مقیم ڈاکٹر ظفر اقبال حال ہی میں اوور 60 کیٹیگری میں منعقدہ ماسٹرز ہاکی ورلڈ ک میں پاکستان کی نمائندگی کر کے واپس آئے ہیں، یہ ٹورنامنٹ بیلجیم اور ہالینڈ میں کھیلا گیا۔ خاص بات یہ ہے کہ پاکستان کی یہ ٹیم تقریباً 20 سال کے وقفے کے بعد کسی ماسٹرز عالمی مقابلے میں شریک ہوئی، اور اس میں ہاکی کے مشہور کھلاڑی شہباز سینئر سمیت کئی سینئر بین الاقوامی کھلاڑی شامل تھے۔
ڈاکٹر ظفر اقبال کے مطابق یہ Masters World Cup مختلف عمر کے گروپس پر مشتمل تھا، جن میں 35 سال کی عمر سے لے کر 75 سال تک کے کھلاڑی شامل تھے، اور وہ خود over 60 کیٹیگری کی ٹیم کا حصہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی ٹیم کو ہالینڈ کی جانب سے باضابطہ دعوت موصول ہوئی تھی، جس کے بعد شہباز سینئر نے ٹیم تشکیل دی اور انہوں نے خود لاہور میں ٹرائلز دے کر ٹیم میں جگہ بنائی۔
ڈاکٹر ظفر کا کہنا ہے کہ اپنے ملک کی نمائندگی کرنا اور قومی رنگ پہن کر کھیلنا ان کے لیے ایک خواب کی تعبیر جیسا تھا، خاص طور پر جب انہیں شہباز سینئر، خالد حمید اور طارق شیخ جیسے سینئر بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملا۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ یہ ٹورنامنٹس حکومتی سرپرستی میں نہیں بلکہ self-financed ہوتے ہیں، یعنی کھلاڑی اپنے سفر، قیام اور رجسٹریشن کے اخراجات خود برداشت کرتے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کے کئی اچھے کھلاڑی مالی مشکلات کے باعث شریک نہیں ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے پاکستانی ہاکی کے موجودہ اور ماضی کے انداز میں فرق پر بھی روشنی ڈالی، خاص طور پر روایتی طرز کے مقابلے میں جدید یورپی ہاکی کے اسلوب کو اپنانے میں درپیش مشکلات کا ذکر کیا۔





