12 ربیع الاول کی آمد سے قبل میلبورن ایک نئی نشید تیار کی ہے جس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں مختلف ثقافتی پس منظر رکھنے والے آسٹریلین موسیقاروں نے بھی حصہ لیا ہے۔ ساز اور آواز کے امتزاج سے تیار ہونے والی اس نشید کے پیچھے کارفرما محنت اور اس منصوبے سے جڑی ایک ذاتی کہانی جاننے کے لیے ایس بی ایس اردو نے نشید خواں ذیشان قریشی اور اس پراجیکٹ میں شامل موسیقاروں سے بات کی۔
ذیشان قریشی کے مطابق یہ نشید بھرپور بینڈ کے ساتھ لائیو ریکارڈ کی گئی، جس میں The Voice Australia سے تعلق رکھنے والی ایک گلوکارہ سمیت دو دیگر آسٹریلوی موسیقاروں نے بھی شرکت کی، جسے انہوں نے ایک نیا اور یادگار تجربہ قرار دیا۔ نشید کی شاعری محمد قاسم قریشی نے تحریر کی تھی، جو ذیشان کے چچا تھے اور ریکارڈنگ سے چار دن قبل انتقال کر گئے، یوں یہ نشید ان کے لیے ایک خراج عقیدت بھی بن گئی۔
پراجیکٹ کی موسیقی ترتیب دینے کی ذمہ داری پروڈیوسر فخر عباس نے نبھائی۔ اس نشید میں شامل ہونے والے آسٹریلوی سازندوں نے بھی اپنے تجربات بیان کیے: ہارمونیم بجانے والی روبی نے اسے اپنے لیے ایک بالکل نیا تجربہ قرار دیا، طبلہ نواز کرسچن نے اسے ایک نئی صنف موسیقی سے تعارف قرار دیا، مینڈولین بجانے والے فیصل رانا نے بینڈ کے ساتھ کام کرنے کو ایک نہایت پرلطف تجربہ بتایا، جبکہ The Voice Australia سیزن 12 کی شریک گلوکارہ گیبی نے بانسری بجانے کو اپنے لیے ایک نیا اور شاندار تجربہ قرار دیا۔





