لندن کے پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک پر ہونے والے سات جولائی 2005 کے دہشت گرد انہ حملوں کے 20 سال بعد بھی زندہ بچ جانے والے افراد اور متاثرین کے رشتہ دار ہلاک شدگان کو یاد کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ بم دھماکوں میں بھری ہوئی ٹرینوں اور بسوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں 52 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔
انتہا پسندوں کی جانب سے کیے جانے والے خودکش حملے دوسری جنگ عظیم کے بعد سے لندن میں ہونے والے بدترین حملے تھے۔
القاعدہ سے متاثر چار برطانوی افراد نے خود کو تین ٹیوب میں نصب آلات سے اڑا لیا، جن میں سے ایک بس میں تھا، جو صبح کے رش کے اوقات میں زیادہ سے زیادہ ہلاکتوں اور تباہی کا سبب بنا۔
ایڈویئر روڈ اسٹیشن پر ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے والے ڈیوڈ فولکس کے والد گراہم فولکس نے میموریل سروس میں اجتماع کو بتایا کہ لندن اب بھی امید زندہ ہے۔





