اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہی اجلاس میں میزبان ملک متحدہ عرب امارات اور متعدد خیراتی اداروں نے موسمی تغیر سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے بچاؤ کے لئے سات سو ستّتر ملین امریکی ڈالر یا ایک اعشاریہ دو بلین آسٹریلن ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔ COP 80
میں ہونے والے کے متحدہ عرب امارات سربراہی اجلاس میں شرکا کی توجہ آب و ہوا کی تبدیلی سے صحت کے خطرات پر مرکوز رہی ، اور اس مَد میں یو اے ای اور بل اینڈ ملینڈا گیٹ فاؤنڈیشن نے الگ الگ ۱۰۰ ملین امریکی ڈالر کی امداد کا اعلان کیا۔

آب و ہوا سے متعلقہ صحت کے مسائل کے لیے فنڈز کا اعلان کرنے والوں میں بیلجیئم، جرمنی اور امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی بھی شامل ہیں۔
عالمی بینک نے ترقی پذیر ممالک میں صحت عامہ کے لیے ممکنہ امدادی اقدامات کی کھوج لگانے کا ایک پروگرام بھی شروع کیا ہے، جہاں آب و ہوا سے متعلق صحت کے خطرات خاص طور پر زیادہ ہیں۔
لیکن سربراہی اجلاس کے موقع پر سابق امریکی نائب صدر اور ، ماحولیات کی حفاظت کے حامی ال گور نے اس اجتماع کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کے میزبان ملک پر عوامی اعتماد کو غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا ۔
اجلاس میں شریک کچھ مندوبین نے اس بات پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی قومی تیل کمپنی کے سربراہ سلطان الجابر جو سربراہی اجلاس کے صدر تھے موسمیاتی معاہدے کے لئے ایک درست انتخاب ہو سکتے ہیں۔

مسٹر الجابر نے کاربن خارج کرنے والے ایندھن کے نقصانات کے سائنسی شواہد پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی کوئی سائنس نہیں ہے جو یہ تجویز کرے کہ اس کے خاتمے سے عالمی حرارت 1.5 ڈگری تک محدود رہے گا۔
مسٹر گور نے شواہد پیش کیے جن سے پتہ چلتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں پچھلے سال 2022 کے مقابلے میں 7.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دنیا میں یہ اضافہ 1.5 فیصد تھا۔
متحدہ عرب امارات نے مسٹر گور کے بیانات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا - لیکن سابق امریکی نائب صدر ہی اس کانفرنس کے خلاف بات کرنے والے نہیں تھے۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد فلسطینیوں کی حمایت میں پہلی بار پُر امن احتجاجی مظاہرہ ہوا جو متحدہ عرب امارات کے رہائشیوں کے لیے ایک نادر منظر تھا کیونکہ ملک میں ہر طرح کے احتجاجی مظاہرے پر سخت پابندی ہے مگر پہلی بار اس سخت ہدایات کے ساتھ مظاہرے کی اجازت دی گئی تھی۔

انٹرنیشنل لیگ آف پیپلز سٹرگل کی سرگرم کارکن عذرا سعید نے کہا کہ جنگ اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے درمیان واضح تعلق ہے۔
کیونکہ سالانہ سربراہی اجلاس میں پہلی بار صحت عامہ کو نمایاں کیا گیا ہے اس لئے طبی پیشہ ور افراد نے کاربن کے ایندھن کے تیز رفتاری سے مرحلے وار خاتمے کا مطالبہ کیا
ورلڈ میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر، ڈاکٹر لوجین القودمانی نے کوئلے، تیل اور گیس کے صحت پر منفی اثرات کی طرف توجہ مبذول کروائی ۔
آسٹریلیا نے عالمی کانفرنس میں اپنی قابل تجدید توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت کو تین گنا بڑھانے کا اعلان کرکے 100 سے زائد ممالک میں شمولیت اختیار کی ہے جو ۲۰۳۰ تک قابل تجدید توانائی میں تین گنا اضافہ کریں گے۔
لیکن آسٹریلیا نے فرانس اور امریکہ سمیت 20 ممالک کے اس اعلان میں حصہ نہیں لیا جنہوں نے 2050 تک جوہری توانائی کی صلاحیت کو تین گنا بڑھانے پر اتفاق کیا۔موسمیاتی تبدیلی کے مخالف گروپ کے ترجمان ٹیڈ اوبرائن نے اے بی سی کو بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ آسٹریلیا کی ایک غلطی تھی۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی آسٹریلوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جوہری توانائی پر پابندی سے ختم کرے۔
لیکن وزیر ماحولیات تانیا پلیبرسیک نے وفاقی حکومت کے موقف کی توثیق کرتے ہوئے چینل 7 کو بتایا کہ جوہری توانائی بہت مہنگی ہے۔
_____________________
کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک بنائیں یا ایس بی ایس اردو کو اپنا ہوم پیج بنائیں۔
ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے
“SBS Audio” کے نام سے موجود ہماری موبائیل ایپ انسٹال کیجئے
ایپیل (آئی فون)یا اینڈرائیڈ ڈیوائیسز پر انسٹال کیجئے
پوڈکاسٹ کو سننے کے لئے نیچے دئے اپنے پسندیدہ پوڈ کاسٹ پلیٹ فارم سے سنئے:











