اہم نکات
- وادی تیراہ آپریشن، وفاقی صوبائی حکومتیں آمنے سامنے
- گل پلازہ سانحے پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا تنازعہ
- عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش
صوبہ خیبرپختونخواہ کی وادی تیراہ میں آپریشن کے معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں آمنے سامنے آگئی ہیں۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا۔ لوگ موسم کی شدت کی وجہ سے نقل مکانی کررہے ہیں۔ وزیراعلی خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی نے وفاق پر وادی تیرہ میں آپریشن اور لوگوں کی بے دخلی کا الزام عائد کیا ہے۔
گل پلازہ سانحے پر سندھ کی دو بڑی جماعتوں میں ٹھن گئی ہے۔ ایم کیو ایم نے الزام عائد کیا ہےکہ اس کے جوڈیشل کمیشن کے مطالبے کے بعد سندھ حکومت نے اس کے مرکزی رہنماوں، اپوزیشن لیڈر اور وفاقی وزراء کی سیکورٹی واپس لے لی ہے۔ سندھ حکومت نے الزام کو سیاست قرار دیدیا ہے۔
اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان سے فیملی، وکلاء یا پارٹی رہنماوں میں سے کسی کو ملاقات کی اجازت نہ ملی۔ تحریک انصاف نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے خبروں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کی جوڈیشل کمپلیکس پیشی کے موقع پر وکلا کو باہر نکالے جانے کے معاملے پر ڈی آئی جی آپریشنز جواد طارق اور ڈی آئی جی سیکورٹی محمد عتیق طاہر نے وکلا سے باضابطہ غیر مشروط معافی مانگ لی۔جس کے بعد وکلاء نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی میں شرکت یا عدم شرکت سے متعلق فیصلہ جمعہ یا سوموار کے روز متوقع ہے۔
(بشکریہ: اصغرحیات۔ پاکستان)






