اسکول جبری شادی کی نشاندہی میں کیسے مدد کر سکتے ہیں؟

Counsellor Rand Faied (SBS).jpg

Counsellor Rand Faied Source: SBS

نئے تعلیمی سال کے آغاز پر طلبہ کی واپسی کے ساتھ، آسٹریلین فیڈرل پولیس نے اسکولوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے اشاروں پر نظر رکھیں جن سے ظاہر ہو کہ کسی طالب علم کو جبری شادی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔


وفاقی پولیس جبری شادیوں کی نشاندہی میں مدد کے لیے اسکولوں سے تعاون کی اپیل کر رہی ہے۔

آسٹریلیا میں نیا تعلیمی سال طلبہ و طالبات کی اسکول واپسی کا وقت ہے۔ اور ایسے میں آسٹریلین فیڈرل پولیس نے اسکولوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے اشاروں پر نظر رکھیں جن سے معلوم ہو کہ کسی طالب علم یا طالبہ کو زبردستی شادی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔شادی کا دن زندگی کے پُرمسرت دنوں میں سے ایک ہوتا ہے۔لیکن یہ خاتون جن کا فرضی نام لیلیٰ ہے ان کے لئے معاملہ اس کے برعکس تھا۔پندرہ سال کی عمر میں انہیں اسکول سے نکال کر انہیں اپنے کزن سے شادی پر مجبور کیا گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ پچاس سال پہلے کئے گئے اس فیصلے نے ان کی زندگی کو غلط سمت میں ڈال دیا۔

ان کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے۔ اور ان کے سات بچے ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کی تکلیف اب بھی جاری ہے جس کے باعث ان کے اپنے بچوں کے ساتھ تعلقات بھی متاثر ہوئے ہیں۔

رند فائد ایک خاندانی مشیر ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ لیلیٰ کی کہانی حیران کن نہیں۔وہ کہتی ہیں کہ جبر، دھمکی یا فریب کے ذریعے ہونے والی شادی زندگی بھر کے ذہنی صدمے کا سبب بن سکتی ہے۔

مس فائد اور آسٹریلین فیڈرل پولیس کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں جبری شادیوں کو روکنے میں اسکول اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔فیڈرل پولیس بچوں کے استحصال کے روک تھام کے مرکز کی قیادت کرتی ہے،اس مرکز کے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ جبری شادیوں سے متعلق شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

2024-2025 کے مالی سال میں ایسی 118 شکایات موصول ہوئیں، جبکہ پچھلے مالی سال میں جبری شادی کی شکایات کی تعداد 91 تھی۔

ہیلن شنائیڈر اس شعبے میں اے ایف پی کمانڈر ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اسکول نوجوانوں میں وہ تبدیلیاں دیکھ سکتے ہیں جو ممکنہ جبری شادی کے باعث پیدا ہوتی ہیں اور جنہیں دوسرے لوگ محسوس نہیں کر پاتے، اسی لیے وہ اس عمل کے خلاف پہلی دفاعی صف ہیں۔

جبری شادی کی عام علامات میں بچوں کی خودمختاری میں کمی، کسی خاندانی فرد کے ذریعے ان کی مسلسل نگرانی، اور لڑکیوں کا بیرونِ ملک طے شدہ سفر پر تشویش کا اظہار شامل ہو سکتا ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکول کے اندر ابتدائی اشارے کچھ مختلف نظر آ سکتے ہیں۔ان میں تعلیمی سرگرمیوں سے لاتعلقی، دوستوں سے الگ تھلگ رہنا، یا بار بار اسکول سے غیر حاضری شامل ہیں۔ کمانڈر شنائیڈر کا کہنا ہے کہ فیڈرل پولیس بچوں کی حفاظت کے لیے اسکولوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہے۔جبری شادی سے متعلق جرائم میں قانونی کارروائی کرنا سب سے ذیادہ مشکل ہوتا ہے۔

مس شنائیڈر کا کہنا ہے کہ رپورٹ شدہ کیسز میں تقریباً 30 فیصد اضافہ لازمی طور پر یہ ثابت نہیں کرتا کہ ایسے واقعات واقعی زیادہ ہو رہے ہیں۔ لیلیٰ کے اسکول کو ان کی جبری شادی کے ابتدائی اشارے نظر نہیں آئے تھے۔

لیکن پولیس کو امید ہے کہ آگاہی کے ذریعے دوسرے بچوں کو ایسے تجربات سے بچایا جا سکتا ہے۔

_________
جانئے کس طرح ایس بی ایس اردو کے مرکزی صفحے کو بُک مارک کریں ہر بدھ اور جمعہ کا پورا پروگرام اس لنک پرسنئے, اردو پرگرام سننے کے دیگر طریقے, SBS Audio”کےنام سےموجود ہماری موبائیل ایپ ایپیل (آئی فون) یااینڈرائیڈ , ڈیوائیسزپرانسٹال کیجئے

شئیر

Follow SBS Urdu

Download our apps

Watch on SBS

Urdu News

Watch now