ایک نوجوان اپنی مدد آپ کے تحت معاشرے کے پسے ہوئے اور نظر انداز طبقات کے لیے امید کی شمع بن چکا ہے، گزشتہ دس برسوں کی انتھک محنت میں اس نوجوان نے نہ صرف خود کو آزمایا بلکہ ایک فردِ واحد سے چلنے والی کوشش ایک منظم فلاحی ادارے میں بدل دی، ایسا ادارہ جو آج ہزاروں ضرورت مندوں کا سہارا بن چکا ہے۔
حماد تنویز کے فلاحی سفر کے دوران ایک میڈیکل سینٹر بھی قائم کیا گیا، جہاں صرف 50 روپے میں ہر قسم کا علاج فراہم کیا جاتا ہے، ایسی سہولت جو ان افراد کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں، جو علاج اور دوائی کے درمیان انتخاب پر مجبور ہو جاتے ہیں، بلوچستان میں پانی کی شدید قلت کو سامنے رکھتے ہوئے اس نوجوان کی کاوشوں سے نہ صرف ایک چھوٹا ڈیم تعمیر کیا گیا بلکہ اس منصوبے نے 25 سے 30 ہزار افراد کو ان کا بنیادی حق بھی فراہم کر دیا، جب کہ انہی پسماندہ علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے تعلیمی منصوبوں پر بھی مسلسل کام کیا جارہا ہے، حماد تنویر کے مطابق آبی حیات کی زندگیوں کو درپیش شدید خطرات کے حوالے سے بھی لوگوں میں آگاہی فراہم کرنے کےلیے رواں ہفتے ساحل سمندر کی صفائی کی جائے گی جس میں کم و بیش 3 ہزار کارکنان کے شریک ہونے کا امکان ہے۔





